پطرس بخاری

حالات زندگی:

پروفیسر احمد شاہ پطرس بخاری یکم اکتوبر 1898ء میں پشاور میں پیدا ہوئے ۔ قلمی نام پطرس تھا۔ آپ نے میٹرک تک پشاور میں تعلیم پائی اور اس کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ لے لیا۔ ایم ۔ اے انگریزی تک وہیں تعلیم حاصل کی اور یونیورسٹی میں اول آئے۔ پھر آپ اعلی تعلیم کے لئے انگلستان چلے گئے اور کیمبرج یونیورسٹی سے علمی اعزاز کے ساتھ آنرز کیا۔ وطن آنے پر آپ کو گورنمنٹ کالج لاہور میں انگریزی ادبیات کا استاد مقرر کیا گیا۔ پھر کچھ عرصہ بعد آپ نے محکمہ تعلیم کی ملازمت چھوڑ دی اور آل انڈیا ریڈیو میں ملازمت اختیار کر لی۔ وہاں ترقی کرتے کرتے ڈائریکٹر جنرل ہو گئے ۔ جب پاکستان بنا تو وہ دہلی سے لاہور آ گئے اور گورنمنٹ کالج لاہور کے پرنسپل بنا دیئے گئے ۔ پھر آپ کی قابلیت اور شخصیت کے پیش نظر ءکومت پاکستان نے انہیں اپنا مستقل مندوب بنا کر اقوام متحدہ میں بھیج دیا۔ وہاں بھی آپ کے جوہر کھلے اور آپ کی خدمات اقوام متحدہ کے دفتر میں منتقل کر دی گئیں اور آپ کو اسٹنٹ
سیکرٹری جنرل بنا دیا گیا ۔ اسی عہدہ پر فائز تھے کہ حرکت قلب بند ہو جانے سے 5 دسمبر 1958ء کو آپ کا انتقال ہو گیا۔
پطرس نے بہت کم لکھا ہے اور ان کی شہرت کا انحصار ان کے چند مضامین پر ہے جو ” مضامین پطرس“ کے نام سے چھپ چکے ہیں جنہوں نے اردو کے مزاحیہ ادب میں ایک
انقلاب برپا کر دیا ہے۔ پطرس نے مزاح نگاری کا ایک نیا اسلوب تلاش کر کے مزاح نگاری کے میدان میں ایک نئے مکتب فکر کی بنیاد رکھی ۔

پطرس کا فن مزاح نگاری

پطرس باری کا مزاح ایسا ہے کہ وہ جہاں لفظوں سے کام چلا لیتے ہیں وہاں ان سے زیادہ واقعات سے مزاح پیدا کر لیتے ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ اپنے موضوعات کے اندر عمومیت رکھتے ہیں جس کا واضح مطلب یہ نکلتا ہے کہ وہ اپنے مزاج سے ہر خاص و عام کو حظ کا لطف پہنچاتے ہیں۔ ان کے موضوعات میں اشارے کنائے یا علامت و اختصاص کا عضر نہیں ہوتا۔ ذیل میں ان کے ایک مضمون کا خلاصہ پیش ہے کہ وہ کس طرح مزاح کا پہلو نکال لیتے ہیں۔ ان کے مضمون کا عنوان ہے: ہاسٹل میں پڑھنا یہ ایک طالب علم سے متعلق ہے وہ پڑھنا بھی چاہتا ہے لیکن یہ بھی چاہتا ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح ہاسٹل میں رہ کر علم حاصل کرے۔ اس کے خیال میں نفرت کا صحیح لطف ہاسٹل میں رہ کر حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لئے وہ ہر سال ایک نیا بہانہ بنا کر اپنے والدین کو قائل کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ اگر وہ ہوٹل میں ہوتا تو ایسا نہ ہوتا یہ نہ ہوتا وہ نہ ہوتا۔ اسی شوق میں وہ بار بار فیل ہوتا رہتا ہے اور اس امید میں رہتا ہے کہ اس سال تو اس کے والدین اسے ہاسٹل میں رہنے کی اجازت دے دیں گے جبکہ اس کے والدین جو مسلمان گھرانے کے ہیں نہیں چاہتے کہ ان کا بیٹا ہاسٹل میں داخل ہو۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہاسٹل ایسی جگہ ہے جہاں لڑکے بگڑ جاتے ہیں اور طرح طرح کی برائیوں میں پھنس کر ماں باپ کے نام کو بٹہ لگاتے ہیں۔ لڑکے کا بار بار فیل ہونا کوئی ایسا عجوبہ نہیں ہمارے سامنے ایسے کئی لڑکے ہیں جو اس طرح فیل ہوتے رہتے ہیں۔ یہ بات ہمارے مشاہدے کے مطابق نہایت ہی مضحکہ خیز ہے پس اسی مضحکہ تیزی سے پطرس نے مزاح کا پہلو نکال کر اس س مضمون کو اتنا مزاحیہ بنا دیا ہے کہ ہر پڑھنے والے لڑکے اور والدین کی غلط سوچ کے متعلق جان کر ہنسنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

پطرس جب کتوں سے متعلق مضمون کے لکھنے بیٹھا تھا تو اس میں کتنے مضحک نظارے دکھا گیا اور ان باتوں کو ہر کوئی جانتا بھی ہے اور روزانہ ہر کسی کو ان سے واسطہ پڑتا ہے۔ اب یہ پطرس کا کمال فن ہے کہ اس نے ان کتوں کی حرکات اور بے ڈھنگے پن میں مزاح پیدا کر دیا کہ ہر کوئی اس سے لطف اندوز ہو رہا ہے اور ہنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

اس طرح جب سیاسی زندگی کے کھیل کھیلتے ہوئے بھی وہ عمومیت کا رنگ دکھاتا ہے تو انسان خواہ مخواہ ہنسنے سے بچ نہیں سکتا۔ مضمون ”مرید پور کا پیر” کیونکر لیڈری کے شوق میں گرفتار ہوتا ہے اور عوام اسے کس طرح لیڈر بناتی ہے۔ اب یہ اس کی بھی مجبوری بن جاتی ہے کہ وہ ضرور لیڈر بن کر دکھائے اور وہ اپنے آپ کو لیڈر تصور کر کے لیڈری دکھاتا ہے۔ اس موقع پر جو نقشہ پطرس نے کھینچا ہے یقینا اسے پڑھتے ہی ہر شخص کا ہنسنے کو جی چاہے گا۔

پطرس کے مضامین کے موضوع ایسے ہیں جو ہمیشہ پڑھے جاتے رہے ہیں پڑھے جاتے رہیں گے نیز ان کا ہر طبقہ سے تعلق کسی نہ کی واسطہ سے قائم ہے اور قائم رہے گا جسے پڑھنا پڑھانا۔ یہ ایسا سلسلہ ہے جو نامعلوم کب سے جاری ہے اور رہتی دنیا تک جاری رہے گا اور اس کے ساتھ ساتھ استاد اور شاگرد کا تعلق بھی قائم رہے گا۔ وہ تمام مضامین جو اب تک پڑھائے جاتے رہے ہیں ان میں کمی کی بجائے اضافہ ہو گا اور لوگ بھی بحیثیت والدین ان میں دلچسپی لیتے رہیں گے۔

اس طرح ایک طالب علم کے مشاغل اس کی روائتی سستی، غیر علمی شغل، ہاسٹل کی آزادی سے بھرپور زندگی اور آزاد زندگی میں ہر متلاشی علم کی دلچسپی قائم رہے گی۔
اسی طرح پطرس کے دیگر مضامین بھی عموی زندگی سے تعلق رکھتے ہیں اور ایسے ایسے واقعات و تجربات سے ظہور پذیر ہوئے ہیں اور ہر انسان کو زندگی میں ان سے کسی نہ کسی طور واسطہ پڑتا ہی رہتا ہے۔ پھر ایسے ہی واقعات و تجربات سے اپنے مزاحیہ پہلو تلاش کر لیتے ہیں اور پھر انہیں ان ہی لوگوں تک پہنچاتے ہیں جن سے یہ تلاش کئے گئے ہوتے ہیں۔ اس طرح وہ تمام لوگ ان موضوعات کو پڑھ پڑھ کر اپنے آپ کو محظوظ کرتے ہیں اور خوب ہنستے ہیں۔
اس کے مقابلے میں رشید احمد صدیقی بھی مشہور مزاح نگار ہیں لیکن ان کے موضوعات میں عمومیت کا فقدان ہے ان میں مقامیت کی بھی کمی ہے۔ اس کی جگہ اختصاصیت یعنی مخصوص لوگوں خاص علاقوں کا رنگ پایا جاتا ہے۔ ان کا مزاح بھی مخصوص طبقہ کے لوگوں کو تفریح مہیا کرتا ہے۔ رشید احمد صدیقی اپنے مضامیں میں مخصوص علاقہ یعنی علی گڑھ اور خاص لوگوں یعنی علی گڑھ کی ادبی و اعلی شخصیات اور خاص موضوع یعنی علی گڑھ کی روایت اور خصوصیات پر اپنا قلم چلاتے ہیں۔ ان کے مضامین میں مخصوص قسم کی اشاریت اور علامت ہوتی ہے جسے صرف وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جن کی طرف وہ اشارہ ہو چونکہ یہ علاتیں اور اشارے ایک حیثیت رکھتے ہیں اس لئے ہر خاص و عام کی سمجھ میں نہیں آ سکتے۔ جب تک کسی بات کی سمجھ ہی نہ آئے وہ لطف و مزاح کیا خاک مہیا کرے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔